غزہ :شہید فلسطینیوں کی تعداد 640 تک پہنچ گئی
پاکستانی نژاد پائلٹ حارث سلیمان کی لاش مل گئی
راولپنڈی:گاڑی سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد، دو ملزمان گرفتار
عمران خان کو دنگل ہی کرنا ہے تو کوئی اور دن چُن لیں، سعد رفیق
واشنگٹن:سابق صدر زرداری کی امریکی نائب صدر سے طویل ملاقات
شوال:سیکیورٹی فورسز کی جیٹ طیاروں سے بمباری 13دہشت گرد ہلاک
14 اگست کا آزادی مارچ ہر صورت ہوگا، شاہ محمود قریشی

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
عشرۂ عید میں کوئی دیکھے
مشکلیں ہم سفید پوشوں کی
بڑھ رہی ہے ہمارے حال پہ روز
مہربانی گراں فروشوں ...
 
 
 
میں پاکستان میں شائع ہونیوالے اخبارات پڑھوں یا ٹی وی چینلز دیکھوں ہمارے قومی لیڈرز مخالفین پر بیانات کے ایسے ایسے زہریلے نشتر چلا رہے ہوتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ...
 
 
 
جو بات ایک عشرہ قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے تجزیہ نگار تھامسن فرائیڈمین نے کہی تھی وہی باندازدگر حافظ محمد سعید نے دانشوروںاور اخبارنویسوں کے سامنے ...
 
 
 
SMS: #SSC (space) message & send to 8001
sughra.sadaf@janggroup.com.pk
دنیا بھر میں ہر قسم کے جلسے جلوس، مظاہرے، ریلیاں اور مارچ جمہوری نظام کا حُسن قرار دئیے ...
 
 
 
SMS: #NSC (space) message & send to 8001
کہتے ہیں ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، مگر فلسطین میں تو بڑھتا ہی جا رہا ہے اور خونِ جمنے کی بجائے بہتا ہی جا رہا ...
 
 
 
SMS: #TBC (space) message & send to 8001
tariq.butt@janggroup.com.pk
شاید ہی اس سے قبل کبھی اس پر ملک میں اتنا زیادہ اتفاق رائے ہوا ہوکہ قبائلی علاقے پر امریکی سی ...
 
 
 
SMS: #MAS (space) message & send to 8001
ma.sabzwari@janggroup.com.pk
ہمارے ملک میں ایک مستقل روایت بن چکی ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ضروری اور خصوصاً ...
 
 
 
abidi@janggroup.com.pk
SMS: #HAC (space) message & send to 8001
س۔سر میں بی ایس سی ایس کراچی یونیورسٹی سے کر رہا ہوں اور ابھی ساتویں سمیسٹر کا طالبعلم ہوں،میں ...