عمران خان کو شادی کی پیشکش اب بھی برقرار ہے،اداکارہ میرا
ایم کیو ایم کا خورشیدشاہ کےبیان کےخلاف یوم سیاہ منانےکااعلان
ایڈیشنل سیشن جج لورالائی پر پولیس تشدد ،بلوچستان میں وکلا کا بائیکاٹ
قومی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کا بولنگ ایکشن مشکوک قرار
ڈینئل پرل کیس کا ملزم قاری ہاشم رہائی کے بعد 90دن کیلیے نظربند
خیبرایجنسی: تحصیل باڑہ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 20 دہشت گرد ہلاک
کینیڈین شہریت کیلئے جہلم کی دو بہنوں کی سگے بھائیوں سے پیپر میرج

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
عافیت سے ہوں محرم میں بسر
اپنی صبحیں اور شامیں، امن ہو
ہوگئیں عیدین بدامنی کی نذر
کاش ایام عزأ میں امن ...
 
 
 
SMS: #KNT (space) message & send to 8001
Khalil.ahmed@janggroup.com.pk
کراچی کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی سمجھدار سوسائٹی جس کا نام ڈیفنس اینڈ کلفٹن ریزیڈنٹس کمیٹی ...
 
 
 
SMS: #AKC (space) message & send to 8001
اتوار کی رات مینار پاکستان کے سایہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے ’’قومی دھارے‘‘ میں یہ کہہ کر ...
 
 
 
SMS: #KNC (space) message & send to 8001
kishwar.nahid@janggroup.com.pk
یوں تو 2004ء میں شہلا ضیاء جیسی وکیل نے غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں قانون میں تبدیلی ...
 
 
 
SMS: #AKK (space) message & send to 8001
حضرت پطرس بخاری نے کہا تھا کہ مبالغہ آمیزی اکثر ہندوستانیوں کی طبیعت کا شعاربن چکی ہے ،یہاں ہر کانفرنس ’آل انڈیا یا بین ...
 
 
 
SMS: #HRC (space) message & send to 8001
huzaifa.rehman@janggroup.com.pk
تحریک طالبان پاکستان کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ پاکستان شدت پسندوں کے شر سے آزاد ہوتا ہوا ...
 
 
 
SMS: #PIB (space) message & send to 8001
پرویز مشرف کہتے ہیں:عمران خان میں دور اندیشی کی کمی ہے، انہیں ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، تبدیلی آتے آتے رہ گئی،
کیا ہی ...
 
 
 
SMS: #ARC (space) message & send to 8001
یہ غالباً 1949کی بات ہے جب عبدالحئی نے پاکستان کے سیاسی حالات سے مایوس ہو کر واپس انڈیا چلے جانا بہتر سمجھا۔ ایسے ہی جیسے ...