تھری جی اسپیکٹرم کی نیلامی کاآٹھواں مرحلہ مکمل
آئی ایس آئی کی شکایت ، جیونیوز کو بند کرو،وزارت دفاع کی پیمرا کودرخواست
حامد میرکے سکیورِٹی گارڈ اورڈرائیورکے اہم انکشافات
اسلام آباد: بارہ کہو میں 2 گروپوں میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق، 6 زخمی
تھری جی اور فوری جی اسپیکٹرمز کی نیلامی آج اسلام آباد میں ہوگی
حامد میر نے 7 اپریل کو حملے کے خدشے سے آگاہ کیا تھا، صحافیوں کی عالمی تنظیم
جیوٹی وی کیخلاف پیمرا کوشکایت پرکمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس کا اظہار تشویش

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
اثرانداز ہوں گے ضابطے کیا
کسی خونی، کسی بیداد گر پر
کہ انسانی قوانین و قواعد
کہاں ہوتے ہیں نافذ جانور ...
 
 
 
SMS: #ASC (space) message & send to 8001
azeem.sarwar@janggroup.com.pk
11اگست 1947ء کو اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت کے قیام کی نوید دی جارہی تھی پوری دنیا ...
 
 
 
SMS: #AMC (space) message & send to 8001
وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی گزشتہ ماہ دی ہیگ میں بین الااقوامی نیو کلیئر کانفرنس میں شرکت کے بعد ان دنوں یورپ کے ...
 
 
 
SMS: #MIT (space) message & send to 8001
siddiqui.irfan@janggroup.com.pk
اس کی آواز میں ایک تکلیف کا احساس تھا، وہ شاید حیرت اور صدمے کی ملی جلی کیفیت میں بھی ...
 
 
 
SMS: #FHC (SPACE) message & send to 8001
furqan.hameed@janggroup.com.pk
ترکی میں تیس مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وزیراعظم ایردوان کی جسٹس اینڈ ...
 
 
 
SMS: #AMM (space) message & send to 8001
نیویارک کے پاکستانی نیویارک پولیس کی جانب سے طویل مدت کے بعد ایک اچھی خبر ملنے پر ابھی اطمینان اور خوشی منانے کی تیاری کر ...
 
 
 
SMS: #SAC (space) message & send to 8001
’’حامد میر کہانی‘‘ کے ٹائٹل سے محمد ضیاء الحق نقشبندی کی کتاب میرے سامنے پڑی ہے۔ نوجوان نسل منظم ترتیب، ریسرچ اور تاریخی ...
 
 
 
SMS: #MIB (space) message & send to 8001
Ishtiaq .baig@janggroup.com.pk
گزشتہ دنوں اٹلی عالمی میڈیا کی خبروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا جس کی وجہ اٹلی کی سپریم کورٹ ...