مذاکرات کیلئے تیارہیں، پہل بھارت کو کرنا ہوگی،نواز شریف
فیصل آباد:ایبولاوائرس کامشتبہ مریض دم توڑگیا
مشرف دورمیں جہانگیرترین کی جائیدادمیں تیزی سےاضافہ ہوا،محمد زبیر
کراچی:کورنگی کراسنگ کے قریب دھماکا، 1 شخص جاں بحق
میرےخلاف کارروائی کرکے بدلہ لیا جا رہا ہے، پرویز مشرف
منی لانڈرنگ اور عمران فاروق کیس: تحقیقات جاری، اسکاٹ لینڈ یارڈ
طبیعت بہت خراب ہے ،وعدے کے مطابق سب جلسےہونگے،طاہرالقادری

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
آج کل دفتروں کو حاصل ہے
مرتبہ انتظار گاہوں کا
ہے وطن کے کئی اداروں کو
انتظار اپنے سربراہوں ...
 
 
 
SMS: #AMC (space) message & send to 8001
فیض احمد فیض نے پطرس بخاری کے انتقال پر ایک تقریر میں کہا تھا ’’دوستی باہمی محنت و ریاضت اور مشقّت کا ثمر ہوتی ہے۔ دوستی کے ...
 
 
 
SMS: #KNA (space) message & send to 8001
[email protected]
شکوہ جور کرے کیا کوئی اس شوخ سے جو
صاف قائل بھی نہیں صاف مکرتا بھی نہیں
آج ...
 
 
 
SMS: #MIT (space) message & send to 8001
[email protected]
چند سال قبل اس سے میری پہلی ملاقات تھی جو ایک صحافی دوست اورایک معروف علمی و سماجی شخصیت ...
 
 
 
SMS:#FHC (space) message & send to 8001
[email protected]
ترکی میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی ( آق پارٹی ) کے برسر اقتدار آنے سے قبل ترکی کے اپنے ...
 
 
 
SMS: #AMM (space) message & send to 8001
گیارہ ستمبر 2001ء یعنی سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی آٹھ منٹ کی فون کال کے دوران ہی جب ...
 
 
 
کانفرنس کے اختتام اور برسلز میں کچھ روز قیام کے بعد میری اگلی منزل جرمنی کا شہرڈوسلڈورف (Dusseldorf) تھا جہاں مقیم میرے قریبی دوست اور پاک جرمن کلچرل اینڈ ویلفیئر ...
 
 
 
SMS: #MIC (space) message & send to 8001
جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں میں ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور تعلقات مثبت سمت ...