انتخابی سیاست سے موجودہ حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا،منور حسن
منور حسن کا بیان قابل وضاحت ہے،طاہر اشرفی
انتخابات وقت پر ہوں گے،2018 میں خوشحال پاکستان دینگے،وزیر اعظم
پاکستان اورروس کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ
بجلی کے مسئلے کا حل کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہے،پرویز الٰہی
قبائلی علاقوں کے عوام کو حقوق دیے جائیں ،گرینڈ قبائلی جرگے کا مطالبہ
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا امریکا میں فورٹ اروین کا دورہ

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
آتے ہیں نظر لوگ ہمیں بیکل سے
ہر وقت کے اس شور سے، اس ہلچل سے
جاری ہیں وطن بھر میں بصد جوش و خروش
دھرنوں کے علاوہ متحّرک ...
 
 
 
قدرت خداوندی نے میری بیٹی سجل ناصر کو پانچ سال پہلے کے ایک بیٹے سے نوازا۔ میرا یہ پانچ سالہ نواسہ احمد ندال پیدا ہوا تو میری عمر 75سال تھی۔ مجھ سے 75سال چھوٹا نہیں پون ...
 
 
 
SMS: #KNT (space) message & send to 8001
Khalil.ahmed@janggroup.com.pk
بھارت میں ایک این۔ جی۔ او Route to Root))کے نام سے قائم ہے جو پورے بھارت میں ثقافتی ...
 
 
 
SMS: #HRC (space) message & send to 8001
huzaifa.rehman@janggroup.com.pk
تھر کے لوگوں کا خیال آتا ہے تو بزم حیات کے جام لبوں سے چھوٹ جاتے ہیں اور یو ں لگتا ہے ...
 
 
 
SMS: #MMC (space) message & send to 8001
mujahid.mansoori@janggroup.com.pk
رواں ہفتے میں بڑی تیزی سے ایسی ایسی خبریں آ رہی ہیں جو جنوبی ایشیا جنوب مغربی ایشیا ...
 
 
 
SMS: #PIB (space) message & send to 8001
وزیراعظم محمد نوازشریف نےگیس مہنگی کرنے کی تجویز مسترد کردی، کسانوں کو بجلی 10روپے 35پیسے یونٹ ملے گی۔
چلے ہیں تو سفر کٹ ...
 
 
 
SMS: #YPC (space) message & send to 8001
yasir.pirzada@janggroup.com.pk
کوئی ایسا شخص جس کا پیارا خود کش دھماکے میں مارا جائے ‘ کوئی ایسی ما ں جس کے بیٹے کو ڈاکو ...
 
 
 
SMS: #ARC (space) message & send to 8001
مجھے یاد ہے ہمارے دوست راجہ اشرف صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر کبھی کسی بڑے زمیندار یا وڈیرے کے بچے سے قتل ہو جائے تو وہ تھانیدار ...