الطاف حسین کومبینہ دھمکیاں،خطیب لال مسجد کے خلاف مقدمہ
کراچی ائیر پورٹ حملہ، ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
سانحہ پشاور جیسی ایک اور کارروائی کی اطلاعات ہیں، وزیرداخلہ
پنڈی اور اسلام آباد میں آپریشن، 300 سے زائد مشتبہ افراد زیرحراست
کراچی میں بجلی کابریک ڈاؤن،متعددعلاقےتاریکی میں ڈوب گئے
فیصل آبادڈسٹرکٹ جیل کو4مجرموں کے ڈ یتھ وارنٹ مل گئے
تحریک انصاف کورکمیٹی کی سانحہ پشاورکی مذمت

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
راہنما چاہئے بے جگر و دیدہ ور
قافلہ تیار ہے راہگزر کے لئے
پیر و جواں مرد و زن مضطر و بے تاب ہیں
اس شب تاریک میں نورِ سحر کے ...
 
 
 
SMS: #NAN (space) message & send to 8001
وقت کی رفتار کبھی نہیں رکتی حالات کچھ بھی ہوں وقت کی تیزی اپنی رفتار سے جاری رہتی ہے زندہ قومیں اور ان کے رہنما وقت کے ساتھ ...
 
 
 
rehmat.razzijanggroup.com.pk
SMS:RAR(sapce)message & send to 8001
(گزشتہ سے پیوستہ)
ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے 15 جون کو اسسٹنٹ ...
 
 
 
SMS: #AWC (space) message & send to 8001
ابھی گزشتہ ماہ کی ہی تو بات ہے کہ دہشت گردوں نے لاہور میں واہگہ بارڈر پر خود کش حملے میں درجنوں معصوم پاکستانیوں کو ...
 
 
 
SMS: #SHL (space) message & send to 8001
[email protected]
سانحہ پشاور نے پورے ملک کو سوگوار کیا اور اس سے عالمی سطح پر ا میج اور امن کے حوالے سے خاصی ...
 
 
 
SMS: #NMC (space) message & send to 8001
سقوطِ مشرقی پاکستان کے روز پاکستانی قوم جس صدمے سے دوچار ہوئی تھی اس سے ایک نیا عزم ابھرا تھا اور پاکستان طاقتور بن کر سامنے ...
 
 
 
SMS: #PIB (space) message & send to 8001
ایک مشہور تجزیہ کار کی یہ بات نہایت درست ہے کہ عوام، فوج کی سوچ اور پالیسی سے متفق ہیں، عوام کا مشاہدہ ہے کہ ان کے زخموں پر ...
 
 
 
SMS: #MAR (space) message & send to 8001
[email protected]
بلوچستان ،پاکستان کے ماتھے کا دمکتا ہوا جھومر ہے، اس خاک نے کیسے کیسے گوہرہائے آبدار ...