کرکٹر عمر اکمل کی رسم حنا کے رنگ میں بھنگ
3 نومبر کو ایمرجنسی سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی ایڈوائس پر لگائی تھی،مشرف
چنیوٹ: شادی کی تقریب میں دلہاکی دلہن پرفائرنگ، سہیلی ہلاک
ساہیوال : لڑکی سے زیادتی اور ویڈیو بنانے میں ملوث 6 ملزم گرفتار
خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس کی سماعت
چمن میں پیرا میڈیکل اسٹاف کی ہڑتال ،مریضوں کو مشکلات کا سامنا
بجلی لانے کے نعرے لگائے،خرچے دیکھ کرطوطے اڑگئے،شہبازشریف

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
کچھ عناصر درست خبریں بھی
اور ہی رنگ میں سمجھتے ہیں
دفتر ’’جنگ‘‘ میں ہم اپنے کو
حالتِ جنگ میں سمجھتے ...
 
 
 
میرے دوست اور پنجاب کے محکمہ خوراک کے افسر شرجیل انصر جہلم کے ایک گمنام شاعر کا شعر سنایا کرتے ہیں کہ ؎
ہم جو تقریبات میں کرتے ہیں
تقریباً وہ مینڈک برسات میں کرتے ...
 
 
 
SMS: #AMC (space) message & send to 8001
آج یورپ اور بالخصوص انگلستان کے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں دہشت گردی کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں جو آوازیں اٹھ ...
 
 
 
SMS:#FHC(space)message&send to 8001
furqan.hameed@janggroup.com.pk
حالیہ کچھ عرصے سے پاکستان کی پارلیمنٹ سمیت مختلف حلقوں میں مشرف کو سزا دینے کے لئے ترکی ...
 
 
 
SMS: #ADR (space) message & send to 8001
بچپن میں خوش قسمتی سے ہمیں ایک نیک استاد مل گئے ۔وہ ہمارے رشتہ دار تھے، جب میں مڈل اسکول میں داخل ہوا تووہ سکھر سے پنشن ...
 
 
 
SMS: #MIT (space) message & send to 8001
siddiqui.irfan@janggroup.com.pk
اس وقت جب جمہوریت اپنے ثمر دکھانے لگی ہے،ملک کے حالات ایک طویل عرصے کے بعد بہتر ہوتے نظر ...
 
 
 
SMS: #AMM (space) message & send to 8001
ہم پاکستانی تو اپنے حکمرانوں کی مرضی اور ماضی کی غلط پالیسیوں کے ہاتھوں تباہ شدہ معیشت کی مرمت کیلئے آئی ایم ایف سے قرضوں ...
 
 
 
SMS: #AAC (space) message & send to 8001
آسمان تو ہمیشہ سے ہی رنگ بدلتا آیا تھا لیکن اس بار تو اس نے حد کردی۔ چند ہفتے یا یوں کہہ لیں چند دن پہلے تک وزیراعظم نواز ...