ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ٹیم فٹنس مسائل کا شکار
لیبیاکےلگژری ہوٹل پرمسلح افرادکاحملہ ،9 افراد ہلاک
قومی کرکٹ ٹیم کا کوئی کھلاڑی ان فٹ نہیں ،میڈیا منیجر
کراچی: پروفیسر شکیل اوج اور سبط جعفر کے قتل کا ملزم گرفتار
این اے 122: عمران خان کی لوکل کمیشن کیخلاف درخواست
احمد چنائے کیخلاف کارروائی کی بنیاد بننے والا خط جیو نیوز نے حاصل کرلیا
باقی صوبے پیچھے رہ گئے ،بلدیاتی انتخابات کی دوڑ بلوچستان نے جیت لی

 

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  ادارتی صفحہ  
 
 
Triology of agony...کشور ناہید...لیاری کا حزنیہ
 
دمکتے مہر و وفا کے بادل
کفن کی دہلیز پہ اتر کے
جھلس گئے ہیں
وہ جو شادیاں تھی
سلگتے جسموں، ابلتے خوں ہیں
بدل گئی ہیں
وہ جو خواب رکھے نشیمنوں میں
انہیں جلایا ہے اور ضیافتِ شام کی گئی ہے
وہ جو صبح سورج سے جاگتی تھی
اسے بھی خود کش بموں کی مٹھی میں دے دیا ہے
وہ پھول جیسے حسیں بچے بھی
خوں کی بارش میں سو رہے ہیں
ہر ایک آنگن، ہر اک گلی میں
سروں پہ اوڑھے وہ بیوگی کی سفید چادر
صحن میں بیٹھی یہ پوچھتی ہے
مجھے دلاسہ دیا گیا ہے
کہ وہ تو جنت چلا گیا ہے
میں صبر کی عمر کیسے کاٹوں
میں اپنے بچوں کو مدرسے میں نہ جانے دونگی
مجھے تو ان کو
حسیں جواں ان کے باپ جیسا ہی
دیکھنا ہے
پہاڑ جیسی یہ عمر کاٹوں تو کیسے کاٹوں!
………………
ہزارہ بستی والوں کاحزنیہ
وقت کا دریا خون میں لپٹا
میرے شہر میں ٹھہرا ہے
سال کے ہر اک سانس میں خوں ہے
ہر دروازے، ہر چوکھٹ پہ خون کے دھبے
پوچھ رہے ہیں
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جس میں ہنستے پھول سے بچے تھے
مہندی رچائے سہاگنیں تھیں
اور کڑیل جواں ایسے تھے
ان کو دیکھ دعائیں
ہونٹوں پہ آجاتی تھیں
اب تو کفن کے بادلوں سے یہ شہر اٹا ہوا ہے
ہر گھر میں کھلنڈرا بچہ ڈرا ہوا ہے
کیا یہ بستی وہی بستی ہے
جہاں چراغ قبروں پہ نہیں
گھروں میں جلا کرتے تھے
جہاں اجلی عورتیں ہنستی تھیں
اور بوڑھے باپ کے کندھے بھی چوڑے تھے
آج سبھی دالانو میں سائے گھوم رہے ہیں
کوئی دلاسہ دینے والا حرف
کسی دامن میں نہیں ہے۔
……………
شامی نقل مکانیوں کا حزنیہ
ہمیں شہر بدر کرنے کو کہا تو کسی نے نہیں تھا
گولیوں کی بوچھاڑ میں جب اپنے
اتنی دور ہوئے کہ ہمیں لمبی لمبی قبریں بناکر
انہیں دفن کرنا پڑا
جب خوف کے مارے
ہماری چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا
جب ہماری خیمہ بستیوں کو نذر آتش
کیا گیا
جب زمین کا کوئی کونہ ہمیں پناہ دینے سے
گریزاں تھا
اے ہماری وطن شام کی سرزمین
ہماری آبا، بی بی زینب کی سرزمین
ہمیں مجھے الوداع کہنا پڑا
یہ ہمارے قدموں نے مجھے الوداع کہا ہے
ہماری آنکھیں ابھی تک
تیری انگور کی بیلوں میں ٹھہری ہوئی ہیں
شفتالو کا ذائقہ ابھی تک ہماری زبان پر ہے
طرح طرح کے خوان آتے ہیں
لوگ چھپ کر اور ظاہر میں بھی
ہمارے لئے زیتون اور عرق لے کر آتے ہیں
مگر اے ہماری بستی، ہماری خیمہ بستی
ہمیں وہ پیاس یاد آتی ہے
اس زمین کی خوشبو یاد آتی ہے
جہاں ہم نے گھٹنیوں چلنا
سیکھا تھا اور ہم تیری مٹی سے کھیلتے تھے
ہماری مسکراہٹ اسی دن واپس آئے گی
جب ہمارے قدم
اے ہمارے وطن سرزمین شام، شہر دمشق
تو ہمارا استقبال دف بجا کر کر گیا
Print Version       Back  
باغ جنگل دکھائی دیتا ہے
باغبانی نظر نہیں آتی
حکمراں تو ضرور ہیں موجود
حکمرانی نظر نہیں ...
 
 
 
کچھ بین الاقوامی ٹی وی چینلز جنگلی حیات کے بارے میں بہت ساری دلچسپ موویز دکھاتے ہیں جن میں فلم کی عکس بندی کرنیوالے نہ صرف زندگی کا خطرہ مول لیتے ہیں بلکہ بہت انوکھی ...
 
 
 
SMS: #ASC (space) message & send to 8001
[email protected]
میرے دوست نامور کارٹونسٹ ہیں، وہ اپنے دفتر میں کام میں منہمک تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا، ...
 
 
 
SMS: #NRC (space) message & send to 8001
پاک بھارت کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک ہمارے اور بھارت کے تعلقات اکثر کشیدہ ہی ...
 
 
 
SMS: #AJC (space) message & send to 8001
بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر امریکہ کے صدر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے نئی دہلی پہنچے۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے بھارتی ...
 
 
 
SMS: #SSC (space) message & send to 8001
[email protected]
کچھ منظر، واقعات اور حادثات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا تصور میں بھی گزر نہیں ہوتا بلکہ خوف، ...
 
 
 
[email protected]
SMS: #HAC (space) message & send to 8001
س۔ سر میں ایک گورنمنٹ اسکول میں سینئر سیکنڈری ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کر رہی ہوں،میں نے ماسٹرز ...
 
 
 
SMS: #PIB (space) message & send to 8001
وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے:صوبائی حکومتیں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کریں اور ایک خبر ہے کہ پھانسی کی ...